
پانامالیکس،قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی اور حکومتی ارکان آمنے سامنے
قومی اسمبلی میں آج بھی پاناما لیکس موضوع بحث رہا۔ تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی نے جہاں اس مسئلے پر متفقہ تحقیقاتی کمیشن کا مطالبہ دہرایا وہیں پیپلز پارٹی کی شازیہ مری نے وزیر اعظم کو اپنی ذمہ داریاں چھوڑنے کا کہہ دیا۔ ایسے ماحول میں وزیر اطلاعات پرویز رشید بھی حکومت کے دفاع میں خوب گرجے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں تحریک انصاف کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پانامہ لیکس اہم معاملہ نہ ہوتا تو آئرلینڈ کے وزیراعظم مستعفی نہ ہوتے۔ اگر ہم غیر متنازعہ عدالتی کمیشن پر متفق نہیں ہوئے تو سب کا نقصان ہوگا، ہم ایک بااختیار کمیشن چاہتے ہیں۔
وزیر اطلاعات پرویز رشید کا کہنا تھا کہ پانامہ لیکس پر ایسی تقاریر کی گئیں جیسے لوگ گنگا اور جمنا سے نہا کر آئے ہیں۔ پانامہ پیپرز میں مسلم لیگ ن وزیراعظم اور ان کے خاندان کے افراد کے حوالے سے ایک لفظ بھی ایسا تحریر نہیں کہ غیراخلاقی اور غیرقانونی فعل سرزد ہوا ہے۔کوئی سپریم کورٹ جانا چاہے تو راستہ کھلا ہے۔ پی ٹی آئی کا جھوٹ اس بار بھی پچھلے کمیشن کی طرح سامنے آجائے گا۔
وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور شیخ آفتاب کا کہنا تھا کہ یہ سب سی پیک کا راستہ روکنے کیلئے کیا جا رہا ہے۔ آج ملک کو قائداعظم کے بعد نواز شریف جیسا لیڈر مل گیا ہے تو اس سے فائدہ اٹھایا جائے۔ پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی شازیہ مری نے کہا کہ پاناما لیکس کوئی عام اور سادہ مسئلہ نہیں ہے۔ایسا کوئی کمیشن قبول نہیں جس سے منصوبے بنائے جاتے ہیں۔ وزیر اعظم اپنی ذمہ داری سے اسی وقت الگ ہو جائیں۔
No comments:
Post a Comment